ناسا کا سائیکی مشن مریخ کے قریب سے گزر کر رفتار حاصل کرنے میں کامیاب

ناسا کا سائیکی خلائی جہاز جمعہ کے روز مریخ کے انتہائی قریب سے گزر گیا، جس کا مقصد کششِ ثقل کی مدد سے اضافی رفتار حاصل کرنا تھا۔
یہ مشن اپنے حتمی ہدف 16 Psyche کی جانب رواں دواں ہے، جو مریخ اور مشتری کے درمیان مرکزی سیارچوی پٹی میں واقع ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ سیارچہ کسی قدیم ابتدائی سیارے کے دھاتی مرکز کا بچا ہوا حصہ ہو سکتا ہے، جو نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اکتوبر 2023 میں لانچ ہونے والا یہ خلائی مشن اب تک تقریباً 2.2 ارب میل کا سفر طے کر چکا ہے اور توقع ہے کہ اگست 2029 میں اپنے ہدف تک پہنچ جائے گا۔
مریخ کے قریب سے گزرتے ہوئے خلائی جہاز تقریباً 12 ہزار 333 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا اور صرف 2 ہزار 800 میل کے فاصلے سے گزرا۔ مریخ کی کششِ ثقل نے خلائی جہاز کی رفتار بڑھانے اور اس کا راستہ درست کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ تکنیک خلائی جہاز کے آئن تھرسٹر سسٹم میں استعمال ہونے والی زینون گیس کی بچت کے لیے استعمال کی گئی ہے، جو اس نوعیت کا پہلا بین السیاراتی استعمال ہے۔
🚀 NASA’s Spacecraft Just Flew Past Mars at 12,333 MPH… But Its Real Target Is Even Stranger
NASA’s Psyche spacecraft just used Mars like a giant space slingshot, speeding past the planet at over 12,333 miles per hour on its journey to a mysterious metal asteroid called 16… pic.twitter.com/azzeWGLrvb
— SciTech Girl (@scitechgirl) May 15, 2026
مشن ٹیم اس فلائی بائی کو سائنسی آلات کی جانچ اور کیلیبریشن کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ ناسا کے مطابق خلائی جہاز اب اپنے درست راستے پر ہے اور اپنے طویل سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ خلائی گاڑی اگست 2029 میں سیارچے کے گرد مدار میں داخل ہو کر 26 ماہ تک اس کی کششِ ثقل، مقناطیسی خصوصیات اور ساخت کا مطالعہ کرے گی۔
مشن 2031 میں مکمل ہوگا، اور سائنسدانوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا جب کسی دھاتی سیارچے کا اتنے قریب سے تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا، جس میں لوہا، نکل اور ممکنہ طور پر سونا بھی موجود ہو سکتا ہے۔
کا سائیکی خلائی جہاز جمعہ کے روز مریخ کے انتہائی قریب سے گزر گیا، جس کا مقصد کششِ ثقل کی مدد سے اضافی رفتار حاصل کرنا تھا۔یہ مشن اپنے حتمی ہدف 16 Psyche کی جانب رواں دواں ہے، جو مریخ اور مشتری کے درمیان مرکزی سیارچوی پٹی میں واقع ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ سیارچہ کسی قدیم ابتدائی سیارے کے دھاتی مرکز کا بچا ہوا حصہ ہو سکتا ہے، جو نظامِ شمسی کی تشکیل کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
اکتوبر 2023 میں لانچ ہونے والا یہ خلائی مشن اب تک تقریباً 2.2 ارب میل کا سفر طے کر چکا ہے اور توقع ہے کہ اگست 2029 میں اپنے ہدف تک پہنچ جائے گا۔
مریخ کے قریب سے گزرتے ہوئے خلائی جہاز تقریباً 12 ہزار 333 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا اور صرف 2 ہزار 800 میل کے فاصلے سے گزرا۔
مریخ کی کششِ ثقل نے خلائی جہاز کی رفتار بڑھانے اور اس کا راستہ درست کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
ناسا کا چاند پر بیس اور مریخ مشن کے لیے بڑے منصوبوں کا اعلان
یہ تکنیک خلائی جہاز کے آئن تھرسٹر سسٹم میں استعمال ہونے والی زینون گیس کی بچت کے لیے استعمال کی گئی ہے، جو اس نوعیت کا پہلا بین السیاراتی استعمال ہے۔
مشن ٹیم اس فلائی بائی کو سائنسی آلات کی جانچ اور کیلیبریشن کے لیے بھی استعمال کر رہی ہے۔ ناسا کے مطابق خلائی جہاز اب اپنے درست راستے پر ہے اور اپنے طویل سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے۔
یہ خلائی گاڑی اگست 2029 میں سیارچے کے گرد مدار میں داخل ہو کر 26 ماہ تک اس کی کششِ ثقل، مقناطیسی خصوصیات اور ساخت کا مطالعہ کرے گی۔
مشن 2031 میں مکمل ہوگا، اور سائنسدانوں کے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا جب کسی دھاتی سیارچے کا اتنے قریب سے تفصیلی مطالعہ کیا جائے گا، جس میں لوہا، نکل اور ممکنہ طور پر سونا بھی موجود ہو سکتا ہے۔













